نام : کنیز سلطانہ
جماعت : ڈگری سالِ اوّل
گروپ
E/M)-BSC. MPCS))
کالج
: NTR. گورنمنٹ ڈگری کالج.
(W)
محبوب نگر.
*خون کا عطیہ دینے
کی اہمیت*
*Every Blood Donor Is
A Real Hero*
* ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا
ذخیرہ ہوتا ہے.
* ہر تندرست فرد ' ہر
تیسرے مہینے خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے.جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر
اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا کولیسڑول بھی قابو میں رہتا ہے.
* تین ماہ کے اندر ہی نیا
خون ذخیرے میں آجاتا ہے.
* اس سلسلے میں ایک نظریہ
یہ بھی ہے کہ نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت مدافعت کے عمل کو بھی تحریک
ملتی ہے. مشاہدہ ہے کہ جو صحت مند افراد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دیتے ہیں وہ نہ
تو موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں جلد کی کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے.
* لیکن انتقال خون سے
پہلے خون کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے. کیونکہ بہت سی مہلک بیماریاں جیسے
AIDS اور ہیپاٹائٹس جیسے
امراض انتقال خون کی وجہہ سے ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں.
* مثال کے طور پر امیتاب
بچّن کو خون کے ذریعہ AIDS بیماری ان کے بدن میں منتقل ہوئ. جو شخص خون کا
عطیہ دے رہا تھا وہ شخص کے خون میں AIDS بیماری تھی اس وجہ سے
امیتاب بچّن کے بدن میں بھی وہ بیماری منتقل ہوگئی.
اسلیے خون کا عطیہ دینے
والے شخص کی پوری طرح سے جانچ پڑتال کرنی چاہیے.
* 3 جون 1667ء میں طب اور
سرجری کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی انسان کو خون دینے کا کام انجام پایا. یہ عمل
ایک فرانسی ڈاکٹر "جان باپٹسٹ ڈینس" نے انجام دیا.
* مریضوں کو خون دینے کے
عمل سے طب کی دنیا میں بڑا انقلاب ہوا. کیونکہ اس وقت تک بہت سے مریض دنیا میں خون
کی کمی اور بدن سے زیادہ خون بہہ جانے کی وجہہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے.
* اس فرانسی ڈاکٹر نے
اپنے پہلے تجربہ میں ایک بکری کے بچے کا خون انسان کے بدن میں داخل کیا. لیکن اسکے
بعد مریضوں کو انسان کا خون دیا جانے لگا.
* یوروپ میں جنگوں کے
دوران ایک فرانسی نے انتقال خون کی پہلی کوشش کی لیکن وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئ.
اس وقت تک خون کے گروپ A ' B ' AB اور
O کا علم نہیں تھا اور نہ
ہی انکی ذیلی مثبت اور منفی اجزاء کا علم تھا.
* جیسے جیسے ترقی ہوتی
رہی خون کے گروپ ' انکے دیگر فیکٹرز اور انمیں مطابقت کا انکشاف ہوتا رہا کہ کونسے
گروپ والا کس فیکٹرز کے حامل کو خون عطیے میں دے سکتا ہے. جس سے متعلقہ فرد کے بدن
میں کوئ ردعمل نہ ہو.
* 1930 میں انتقال خون کے
سلسلے میں سکی فوسو کی انسٹی ٹیوب آف میڈیکل سائیس نے ایک انوکھا تجربہ کیا.
ایک 60 سال کے فرد ' جو ایک حادثہ میں مرچکا تھا. 12 گھنٹے کے اندر اسکا خون ایک
ایسے نوجوان کے بدن میں ڈالا گیا اور اس کی جان بچائ گئی. جس نے اپنی دونوں
کلائیاں کاٹ کر خود کشی کی کوشش کی تھی.
* 1933 میں انگلستان میں کمیکل
اسٹریٹ ڈالا ہوا خون مریضوں میں منتقل کیا گیا.
* 1936 میں اسپین میں خون بینک
کی موبائیل وین کے ذریعہ خون اسپتالوں میں پہچایا جانے لگا.
* 1939 میں انگلستان کے ایک
ڈاکٹر فلپ کے کون میں اینٹی باڈی کا موروثی طور پر منتقل ہونا دریافت کیا.
* 1940 میں ڈاکٹر ایڈنون کوہن
نے خون کے مختلف حصوں مثلاً پلازما اور سرخ خلیوں کو علاحدہ کرنے ' اسٹور کرنے کے
طریقے معلوم کئے.
* 1941 میں ریڈ کراس
(Red Cross) نے بلڈ بینک کے قیام کا
آغاز کیا.
* 1943 میں ڈاکٹر پال بی سن نے
انکشاف کیا کہ یرقان یا ہیپاٹائٹس کے امراض کا خون ایسے امراض سے مبرا مریضوں میں
منتقل کرنے سے انمیں عطیہ خون کے ساتھ ساتھ عطیہ امراض بھی منتقل ہوجاتا ہے.
* 1948 میں ڈاکٹر کیپری والٹر
نے خون کی بوتلوں کی جگہ پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال شروع کیا.
*بلڈ بینک
(BLOOD BANK) :-
* دنیا کے پہلے خون کے
بینک کے قیام کا سہرا ایک کینڈین ڈاکٹر نارمل ہیتھیون کے سر ہے. جس نے
ہسپانوی جنگ کے دوران اسے قائم کیا.
* اس کے بعد پہلی جنگ
عظیم کے دوران بینک میں اسٹور کیے گئے خون کو زخمیوں کی جان بچانے کیلیے پہلا خون
بینک 1922ء میں انگلستان میں قائم ہوا تھا.
* "سوویت یونین" دنیا
کا پہلا ملک تھا جس نے اسپتالوں میں داخل مریضوں کو فراہمی خون کیلیے دنیا کا پہلا
خون بینک قائم کیا.
* خون کا عطیہ دینا ہماری
صحت کیلیے بہتر ہیں جس سے ہمارے جسم میں
Digestion بہتر ہوتا ہے اور صحت
بھی بنی رہتی ہے اور موٹاپے کا شکار 'ذیابطیس کا شکار دیگر بیماریاں کا شکار
نہیں ہوتے. اور صحت مند زندگی گذار سکتے ہیں.
* آپ کے خون کا ایک خطرہ
کسی بھی انسان کی جان بچا سکتا ہے اسلیے خون کا عطیہ دینا بہت اچھا ہے.
* خون کا عطیہ دینے کیلیے
کم از کم عمر 17 سال ہے.
* BLOOD DONATION
SLOGANS :-
* "I have nothing
to offer but blood, toil, tears and sweat ".( Winston
Churchill)
* "A life may
depend on a gesture from you, a bottle of blood, "
* "A bottle of
blood saved my life, was it yours, "
* "Every blood
donor is a life saver, "
* "Tears of
mother cannot save her child. But your blood can. "
* ہر سال 14 جون کو
World blood donor Day منایا جاتا ہے.
* ایک وقت میں پیسہ انسان
کی جان نہیں بچا سکتا لیکن خون انسان کو زندگی دے سکتا ہے.
* ایک خطرہ خون 3 زندگیوں
کو بچا سکتا ہے.
* 1 point of blood can
save up to 3 lives.
* The gift of blood is
the gift of life.
* ہر دو سکنڈ میں ایک فرد
کو خون کی ضرورت ہوتی ہے.
* ہر سال ہمارے ہندوستان
میں 5 کروڑ یونٹس خون کی فراہمی ہوتی ہے.
* زیادہ تر دواخانوں میں
O type خون کیلیے مدد چاہتے
ہیں.
* ہر دن زیادہ تر 38,000
خون کے عطیہ کی ضرورت ہوتی ہے.
* خون کے اندر 4 گروپس
اور پھر ان چار گروپ میں مثبت اور منفی اجزاء پائے جاتے ہیں.
1) A+ (A positive ) :
A- (A negative)
2) B+ (B positive) :
B-( B negative)
3) AB + (AB positive)
: AB - (AB negative)
4) O+ (O positive) :
O-(O negative)
* ایک ملین سے زیادہ تر
افراد کینسر کے مریض کا شکار رہتے ہیں اور اُن لوگ کو خون کے عطیہ کی ضرورت ہوتی
ہے.
* صرف ایک کار کے حادثات
میں مبتلا افراد کو 100 یونٹس خون کی ضرورت ہوتی ہے.
* اسطریقے سے ہمیں دوسروں
کی جان بچانے کیلیے یا دوسروں کو زندگی دینے کیلیے خون کا عطیہ کرتے رہنا چاہئے.
جس سے نہ صرف ایک فرد میں زندگی آتی ہے بلکہ وہ فرد جو خون کا عطیہ دیتا ہے وہ بھی
تمام بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے اور صحت مند ہوتا ہے.
* ہر کسی کو خون کا عطیہ
دینا چاہیے.
* " Blood
donation is a great donation. "
* "Spare
only 15 minutes And save 3 lives. "
*THANK YOU*
No comments:
Post a Comment