Thursday, October 11, 2018

BLOOD DONATION A GREAT CHARITY . خون کا عطیہ ایک عظیم کار خیر

نام : سُمیرا سلطانہ 
جماعت : ڈگری سالِ دوّم 
روپ : (BA. HEP - (U/M

کالج : NTR. گورنمنٹ ڈگری کالج. (W)
              
محبوب نگر


            
خون کا عطیہ ایک عظیم کار خیر
ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ ہوتا ہے ہر تندرست فرد ہر تیسرے مہینے خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے. جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں.
اور اس کا کولیسڑول بھی قابو میں رہتا ہے. تین ماہ کے اندر ہی نیا خون ذخیرے میں آجاتا ہے . اس سلسلے میں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت مدافعت کے عمل کو بھی تحریک ملتی ہے. مشاہدہ یہ ہے کہ جو صحت مند افراد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دیتے ہیں وہ نہ تو موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں جلد کی کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے .لیکن انتقال خون سے پہلے خون کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے. کیونکہ بہت سی مہلک بیماریاں جیسے ایڈز AIDS اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض انتقال خون کی وجہہ سے ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں. خون انسانی جسم کا ایک اہم لازمی جزو ہے. جو دل ' شریانوں اور لنس کے ذریعہ جسم کے دوسرے اعضاء تک پہنچاتا ہے.
ہر بالغ انسان کے جسم میں تقریباً 2-1 لگین سے لیکر 5-1 لگین تک جبکہ 5-4 لیٹر سے 5-5 لیٹر تک خون پایا جاتا ہے. کسی بھی وجہہ سے خون کی زیادہ کمی کو ڈاکٹر حضرات خون کی منتقلی کی مدد سے دور کرتے ہے.  خون کی محفوظ منتقلی کیلیے سب سے پہلے اس کا گروپ معلوم کرنا ضروری ہے.  جو کے ABO (Blood Group System)  کے تحت معلوم کیا جاتا ہے.  بنیادی طور پر خون کے گروپس کو چار اقسام یعنی  A - B - O اور AB  میں تقسیم کیا گیا ہے.  جس میں ہر ایک قسم کو مثبت (positive ) اور منفی ( negative ) میں مزید تقسیم کی گئ ہے.  گروپ  O خون کو تمام گروپس کے مریضوں کو منتقل کیا جاسکتا ہے. جبکہ گروپ A خون کو A اور AB گروپ کو اور B گروپ والے خون کو B اور AB اور AB گروپ والے خون کو A کے گروپ کے مریضوں کو منتقل کیا جاسکتا ہے.  دنیا بھر میں ہر سال 14 جون کو بلڈ ڈونار ڈئے (Blood donor day) یعنی خون عطیہ کرنے والے کا ایام منایا جاتا ہے. جس کا مقصد خون کی محفوظ منتقلی کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ تمام افراد کا حوصلہ افزائ کرنا ہے.  جو بغیر کسی ذاتی لالچ کے اپنا خون دوسروں کی زندگیاں بچانے کیلیے عطیہ کرتے ہیں.
کسی بھی ضرورت مند مریض کو خون عطیہ کرنا صدقہ جاریہ میں شمار ہوتا ہے. جبکہ کسی دوسرے مسلمان کی مدد سے اللّہ تعالٰی آپکو ہر قسم کی آفات اور محرومیوں میں سے بچاتا ہے.  قرآن پاک کی صورت المائدہ کی آیت ٣۲ میں اللّہ تعالٰی نے ایک انسان کی جان بچانے کے مترادف قرار دیا ہے.  خون عطیہ کرنے سے کسی ضرورت مند کی مدد اور ورکرز کو روحانی سکون اور راحت اپنی جگہ لیکن آج ہماری کوشش ہوگی کہ خون دینے کے عمل کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے جس سے بہت سے لوگوں کے شکوک وشبہات ختم کرکے ان کو عظیم عمل کی جانب راغب کیا جائے.
اکثر لوگوں کا یہ خیال ہیکہ خون عطیہ کرنے سے انسان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں.  جبکہ یہ بات بالکل درست نہیں.  خون عطیہ کرنے میں جتنا خون لیا جاتا ہے وہ انسانی جسم 21 دن میں دوبارہ بناتا ہے.  جبکہ نئے خون کے خلیات پرانے خون سے دوبارہ صحت مند اور طاقتور ہوتے ہے.  جو انسان کو کئی امراض سے بچاتے ہیں.  پولینڈ میں کئے گئے جرنل آف وی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک ریسرچ کے مطابق جو لوگ وقتاً خون کا عطیہ دیتے ہیں. ان میں دل کا دورہ پڑنے اور کینسر لاحق ہونے کے امکانات %95 تک کم ہوجاتے ہیں.  عطیہ شدہ خون کی 7 طرح کی ٹسٹینگ کی جاتی ہے.  جسکی وجہہ سے ڈونار اپنی کسی بھی پوشیدہ بیماری سے لاعلاج ہونے سے پہلے آگاہ ہوجاتا ہے.
جسم میں آئرن کی زیادہ مقدار اور اس کے کم اخراج کی وجہہ سے آئرن انسان کے دل ' جگر اور لبلبہ کو متاثر کرتا ہے.  جبکہ ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں آئرن کی مقدار کو مساوی رکھنے کیلیے خون عطیہ کرنا ایک نہایت مفید عمل ہے.
اس عمل سے رگوں میں خون کے انجماد کو روکنے اور جسم میں خون کے بہتر بہاؤ میں مدد ملتی ہے.  اکثر ریسرچ کا ماننا ہے کہ باقاعدگی سے خون دینے والے ڈونرز موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے.  کیونکہ خون دینے والے ڈونر موٹاپے کا شکار ہوتے اور چربی کو کم اور وزن کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے.  خون عطیہ کرنے کے بعد نئے خون کے بننے سے چہرے پہ نکھار پیدا ہوتا ہے.  اور یہ چہرے پر بڑھاپے کے اثرات کو دور کرتا ہیں..
                           *THANK YOU*


No comments:

Post a Comment

Contact Form

Name

Email *

Message *